تسکین اور تخنیق کسے کہتے ہیں؟

تسکین اور تخنیق کسے کہتے ہیں؟

نصیرالدین محقق طوسی ؒ کا وضع کردہ زحاف’تسکینِ اوسط‘ ہمارے نظام زحافات میں ایک انتہائی کا رآمد زحاف ہے۔ہمارے یہاں جتنی بھی بحریں رائج ہیں ان میں تقریباً تمام ہی بحور میں اس زحاف کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ہمارے یہاں شعر کے دونوں مصرعے حرکات وسکنات کے اعتبار سے اکثر مختلف الوزن ہوتے ہیں۔ دوالگ الگ اوزان کو ایک ہی شعر میں جمع کرلینے کی جوآزادیاں ہمیں حاصل ہیں ان میں سے بیشتر اسی سدابہار زحاف کی مرہون منت ہیں۔ یہ زحاف اہلِ عرب میں نہیں تھا۔یہ ایران کی ایجاد ہے۔آئیے دیکھیں کہ یہ زحاف کس طرح وجود میں آتا ہے اور کہاں استعمال کیا جاتا ہے۔یہ زحاف دوطرح کا ہوتا ہے؂۱۔تسکین اور ۲۔ تخنیق یا تحبیق
ظتسکین :
ہمارے نظامِ عروض میں بہت سے ارکان ایسے ہیں جن میں متواتر تین یا تین سے زائد حرکتیں پائی جاتی ہیں۔مثلاً فَعِلُن ،مُفْتَعِلُن،فَعِلاتن، فَعِلانْ اورفَعِلَتَن وغیرہ ۔آخری رکن فَعِلَتَن میں لگاتا رچار حرکتیں (فَ عِ لَ تَ )جمع ہوگئی ہیں ازروئے عروض درمیان کی حرکت ’ع‘ کو ساکن کرکے اسے فَعْلَتَن یعنی کہ فاعلن یا دوسری درمیانی حرکت ’ل‘ کو ساکن کرکے فَعَلْتَن یعنی فعولن کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح فَعِلُن کی درمیانی حرکت ’ع‘ کو ساکن کرکے فَعْلُن ،فَعِلاتُن میں ف ع ل لگاتار تین حرکتیں ہیں اس لئے در میانی حرکت ع کو ساکن کرکے اسے فَعْلاتن یعنی مَفْعُولُن کیا جاسکتا ہے۔کسی رکن میں تین یا چار متوالی حرکتوں میں درمیانی حرکت کے مسکن کرلینے کے اس عمل کو تسکین اوسط کے نام سے جانا جاتا ہے۔ہمارے یہاں تسکین اوسط کا جس رکن میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے وہ ہے فَعِلُن۔
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
فاعلاتن فَعِلاتن فعلاتن فَعِلُن
فاعلاتن فَعِلاتن فعلاتن فَعْلُن
پہلے مصرعہ کا وزن فاعلاتن فَعِلاتن فعلاتن فَعِلُن اور دوسرے مصرعہ کا وزن فاعلاتن فَعِلاتن فعلاتن فَعْلُن
ظتخنیق ؍تحبیق :
ایسا رکن جس کے شروع میں وتد مجموع ہو اور وہ صدر یا ابتدا میں نہ ہوبلکہ حشو یا عروض و ضرب میں ہوواقع ہو اور اس رکن سے پہلے ایک رکن ایسا ہو جس کا آخری حرف متحرک ہو تو ایسی صورت میں تین متوالی حرکتیں جمع ہوجائیں گی۔اس طرح کے دوارکان کے باہم ملنے سے جب تین متوالی حرکتیں جمع ہوجائیں تو درمیانی حرکت کو ساکن کیا جاسکتا ہے ۔تسکین کے اس عمل کو تحبیق یا تخنیق کہا جاتا ہے۔مثلاًبحر ہزج کا ایک آہنگ ہے
مفعولُ مفاعلن فعولن
اس وزن میں ’مفعولُ مفاعلن ‘ کے ملنے سے تین متوالی حرکتیں (لُ مَ فَ )جمع ہوگئی ہیں اس لئے ضرورت ہونے پر اصولِ تحبیق کو بروئے کار لا کر درمیانی حرکت’مَ ‘ کو ساکن کیا جاسکتا ہے۔اس طرح یہ ’مفعولُم فاعلن‘ یعنی کہ مفعولن فاعلن ہوجائے گا۔آپ کہیں گے اس سے حاصل کیا ہوا ؟حاصل اس سے یہ ہوا کہ اس زحاف کو بروئے کار لاکر آپ اپنے شعر کاایک مصرعہ ’مفعولُ مفاعلن فعولن‘ اور ایک مصرعہ ’مفعولن فاعلن فعولن‘ میں کہہ سکتے ہیں۔مثلاً غالب ؔ کا شعر ہے؂
فریا کی کوئی لے نہیں ہے نالہ پابند نَے نہیں ہے
اس شعر میں پہلا مصرع ’مفعولُ مفاعلن فعولن‘ اور دوسرا مصرعہ ’مفعولن فاعلن فعولن‘ ہے۔دونوں مصرعے مختف الوزن ہوتے ہوئے بھی ازروئے عروض درست ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں