عروض اور شاعری . عبیدؔ اعظم اعظمی . ممبئی

عروض اور شاعری

عبیدؔ اعظم اعظمی ممبئی

عروض اور شاعری ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔شاعری کے بغیر عروض بے معنی ہے تووزنِ عروضی کے بنا شاعری بھی بے مزہ ہو کر رہ جاتی ہے۔وہ احباب جو شعر کہتے ہیں ان کی اس علم سے واقفیت لازمی تصور کی جاتی ہے۔ اردو کے اساتذہ ، اردو کے طلبہ اور شعر گوئی کا شوق رکھنے والے احباب، علمِ عروض سے اگر کما حقہ ٗآگاہ نہیں تونہ سہی ،شُدبُدبہر حال ضروری ہے۔عروض سے واقفیت کا مرحلہ ہرعہد میں ایک دشوارگزارمرحلہ رہا ہے۔کیوں کہ ہمارا نظامِ عروض مختصر یا سہل نہیں بلکہ ایک انتہائی وسیع اور پیچیدہ نظام ہے۔شایدیہی سبب ہے کہ لوگ اس نواح میں قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔مگر ساتھ ہی ساتھ ایک حقیت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی طالب علم چند گھنٹے صرف کرکے اس علم کے بنیادی اصولوں کواپنے ذہن میں محفوظ کرلے تو یہ علم اتنا ہی آسان اور مختصر ہوجاتا ہے جتنا کہ دشوار اور وسیع تصور کیا جاتا ہے۔میں نے اس مضمون کو آسان سے آسان تر پیرائے میں لکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ عروض کے طلبہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس مضمون میں عروض کے بنیادی اصول کچھ اصولِ تقطیع اور آخر میں اردو شاعری میں بکثرت استعمال ہونے والے اوزان مع مثال کے پیش کیے گئے ہیں۔

www.azmi.in

اپنا تبصرہ بھیجیں