عروض کیا ہے وزن کسے کہتے ہیں؟

اصطلاح میں وہ علم جس سے اشعار کا موزوں یا ناموزوں ہونا معلوم ہوسکے، علمِ عروض کہتے ہیں۔اسی بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ علم جس کی مدد سے حرکات وسکنات کے اعتبار سے ملفوظی سطح پر مختلف اقسام کے ہم وزن یاقریب الوزن جملے وضع کیے جاسکیں،اسے ’’علمِ عروض‘‘کہتے ہیں۔
وزن کے لغوی معنی ’تول ‘ہیں۔عروض کی اصطلاح میں کسی بحر کے ارکان کے حرکات وسکنات اور کسی مصرعے یا شعر کے حرکات وسکنات یکساں ہونے کا نام ہے۔وزن میں اگر حرکات وحروف مختلف ہوں تو ہرج نہیں۔مثلاً فعولن اور عبارت حرکات وسکنات کے اعتبار سے ہم وزن الفاظ ہیں لیکن دونوں الفاظ کی حرکات ثلاثہ یکساں نہیں ہیں۔وزن میں زبر،زیر اور پیش کی اہمیت اور مقام یکساں ہے۔

عبیدؔ اعظم اعظمی ممبئی
www.Azmi.in

اپنا تبصرہ بھیجیں