ماہرینِ عروض شعرکوکتنے حصوں میں تقسیم کرتے ہیں؟

ماہرینِ عروض شعرکوکتنے حصوں میں تقسیم کرتے ہیں؟

ماہرین عروض شعر کے پہلے مصرعے کے پہلے رکن کو صدر دوسرے؍تیسرے رکن کو حشو اور آخری رکن کوعروض کہتے ہیں۔دوسرے مصرعے کے پہلے رکن کو ابتدایا مطلع دوسرے؍تیسرے رکن کو حشو اور آخری رکن کو ضرب یا عجز کہتے ہیں۔آئیے مثالوں ذریعے سمجھنے کی کوشش کریں ۔آٹھ رکنی شعرکے حصے

بجز تیرے عطا کی زیست نے ہر ایک شے لیکن

جسے حاصل نہیں سمجھا اسے حاصل نہیں لکھّا

بجز تیرے
عطا کی زی
س نے ہرای
ک شے لیکن
مفاعیلن
صدر
مفاعیلن
حَشْو
مفاعیلن
حَشْو
مفاعیلن
عروض
جسے حاصل
نہیں سمجھا
اسے حاصل
نہیں لکھا
مفاعیلن
رکن؍ابتدا
مفاعیلن
حَشْو
مفاعیلن
حَشْو
مفاعیلن
ضرب؍عجز
چھ رکنی شعر کے حصے : اب تو جو وقت شام ہوتا ہے عہد رفتہ کے نام ہوتا ہے
اب تُ جووق
تِ شام ہو
تا ہے
فاعلاتن
صدر
مفاعلن
حَشْو
فعْلن
عروض
عہد رفتہ
ک نام ہو
تا ہے
فاعلاتن
رکن؍ابتدا

مفاعلن
حَشْو

فعلن
ضرب؍عجز

نکتہ: چار رکنی شعر میں صدر،عروض ،ابتدا؍مطلع اور عجز؍ضرب تو ہوتے ہیں مگرحشو نہیں ہوتا۔
بحر کسے کہتے ہیں؟
ایک رکن یا دو مرکب ارکان کی تکرار سے جو وزن تشکیل پاتا ہے،اسے بحر کہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں