Qamar

نیّر مسعود :جادوئی حقیقتوں کاقصہ گو

ڈاکٹرقمر صدیقی

جادوئی حقیقتوں کے قصہ گو نیّر مسعود 24؍ جولائی 1917 کو ہمیشہ ہمیش کے لیے خاموش ہوگئے۔ 1936میں مرکزِ زبان و ادب لکھنؤ میں پیدا ہونے والے نیّر مسعود نے ایک بھری پُری زندگی گذاری۔ ادب میں ان کا گھرانہ والد مسعود حسن رضوی ادیب کے حوالے سے ویسے بھی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔اس روایت کو نیّر مسعود نے بہ حسنِ خوبی آگے بڑھایا۔افسانہ نگاری کے علاوہ تحقیق و تشریح کے میدان میں بھی انھوں نے اپنی فتوحات درج کیں۔ میر انیس کی سوانح ، مرثیہ خوانی کا فن، شفاء الدولہ کی سرگزشت ، یگانہ احوال و آثار اور تعبیرِ غالب ان کی تحقیق و تشریح کا ایسا کارنامہ ہیں جو انھیں اس شعبہ کا مردِ میداں ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم نیّر مسعود کو اصل شہرت افسانہ نگاری کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ عطرِ کافور، سیمیا، گنجفہ اور طاؤس چمن کی مینا اُن کے افسانوی مجموعے ہیں۔ ان میں سے طاؤس چمن کی مینا کے لیے انھیں 2001میں ساہتیہ اکادمی اور 2007میں سرسوتی سمان سے سرفراز کیا گیا۔
نیّر مسعود چونکہ لکھنؤ کے پرانے باشندے تھے اور اپنی عادات و اطوار سے کچھ کچھ روایتی بھی لگتے تھے لہٰذا اس بات کی خوب دھوم مچی کہ وہ لکھنؤ کے زوال کا افسانہ لکھتے ہیں۔ ہماری تنقید کی مشکل بھی یہی ہے کہ اپنی تن آسانی کے بہانے ڈھونڈ لیتی ہے۔ وگرنہ نیّر مسعود کے افسانوں کی ہمہ گیریت کو محض لکھنؤ تک محدود نہ کیا جاتا بلکہ اُس میں موجود سرّیت اور مابعد الطبیعاتی فضا پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا جاتا۔ نیّر مسعود شاید ہمارے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں میں رئیلزم اور میجک ریئلزم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ’شیشہ گھاٹ‘ ، عطرِ کافور‘ اور ’نصرت‘ جیسے افسانے بطور مثال پیش کیے جاسکتے ہیں جن میں خواب ناک علامتوں والا یہ اسلوب اپنے پورے شباب پر ہے۔ اُن کی کہانیوں میں سرّیت اور تجریدیت کی فضاکے بین بین علامتوں کے سہارے حقیقت اور معنویت کی فضا بھی برقرار رہتی ہے جو افسانے کے آہنگ کو ذاتی یا مابعد الطبیعاتی ہونے سے بچاکر اس کو ایک کائناتی یا آفاقی احساس میں بدل دیتی ہے۔ مثلاً ’طاؤس چمن کی مینا‘ میں لکھنؤ بھی ہے، لکھنؤ کا زوال بھی ہے اور زوال کے بعد کا ڈپریشن بھی ۔افسانہ پڑھتے ہوئے قاری ایک غم انگیز تاثر سے ضرور گذرتا ہے لیکن اس اضمحلال کی کیفیت میں بھی زندگی جینے کا حوصلہ برقرار رہتا ہے۔ نیّر مسعود نے اس افسانے کا آخری پیراگراف اس چابکدستی سے لکھا ہے کہ گویا یہ افسانہ ختم ہوکر بھی قاری کے ذہن میں جاری رہتا ہے۔ ملا حظہ ہو:
’’ لکھنؤ میں میرا دل نہ لگنا اور ایک مہینے کے اندر بنارس میں آرہنا، شاون کی لڑائی، سلطان عالم کا کلکتے میں قید ہونا، چھوٹے میاں کا انگریز سے ٹکرانا، لکھنؤ کا تباہ ہونا، قیصر باغ پر گوروں کا دھاوا کرنا، کٹہروں میں بند شاہی جانوروں کا شکار کھیلنا، ایک شیرنی کا اپنے گورے شکاری کو گھائل کرکے بھاگ نکلنا، گوروں کا طیش میں آکر داروغہ نبی بخش کو گولی مارنا، یہ سب دوسرے قصے ہیں اور ان قصوں کے اندر بھی قصے ہیں۔ لیکن طاؤس چمن کی مینا کا قصہ وہیں پر ختم ہوجاتا ہے جہاں ننھی فلک آرا میری گود میں بیٹھ کر اس کے نئے نئے قصے سنانا شروع کرتی ہے۔‘‘
(طاؤس چمن کی مینا۔ از: نیّر مسعود۔ ص: ۲۰۵۔ عرشیہ پبلی کیشن۔ نئی دہلی۔ ۲۰۱۳ء)
اس افسانے میں قصے کے ساتھ تاریخی و تہذیبی عناصر بالکل چپک کر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ افسانے کا راوی یعنی کالے خان تاریخ کی کتابوں میں کہیں موجود نہیں ہے لیکن سلطان عالم یعنی واجد علی شاہ ایک تاریخی فرد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی افسانے میں تہذیبی طور پر بہت سے عناصر سلطان عالم کی تاریخیت کو مستحکم کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً حسین آباد کا امام باڑہ، لکھنؤ کی معاشرت میں اس کی اہمیت، نواب نصیر الدین حیدر کا انگریزی دوا خانہ ، لکھّی دروازہ ، قیصر باغ ، درشن سنگھ باؤلی وغیرہ تو بالکل سامنے کے وسائل ہیں۔
زندگی کو افسانے میں ڈھالنے کی صلاحیت شاید اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب فن کار زندگی کی تمام تر دشواریوں، تکلیفوں، بوالعجبیوں اور نیرنگیوں سے خود کو ہم آہنگ کرلیتا ہے۔ اُس کا ظاہر و باطن زندگی کے تمام رَسوں سے شرابور ہوجاتا ہے۔ ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ انسان کا ذہنی سفر اس کی عملی زندگی سے زیادہ تیز ہے۔ اس عہد کی تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ انسان ایک طرف انسانیت کو خاک و خون سے آلودہ کررہا ہے تو دوسری طرف تہذیب و تمدن اورانسانیت نوازی کے نام اپنے اِنھیں مظالم کا جواز بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والے فن کار کے لیے یہ صورتِ حال کسی اگنی پرکشا سے کم نہیں ہوتی۔ ایک ایسی اگنی پرکشا جہاں قدریں راکھ ہورہی ہیں، ٹوٹ رہی ہیں ، سسک رہی ہیں۔ اقدار کی اس تشنجی کیفیت نے فن کا ر کو اِس دم توڑتی تہذیب سے محبت کرنا سکھایا۔لہٰذا نیّر مسعود کے افسانوں میں اقدار اور تہذیب سے محبت کا پہلو سب سے روشن ہے۔
نیّر مسعود کے افسانے علائم اور ابہام سے مزین ہیں۔ ان کے یہاں علائم کا استعمال برجستہ ہوتا ہے۔ علامتوں کے ذریعے ہی وہ ماضی و حال کے حادثات و واقعات کے درمیان تعلق پیدا کرتے ہیں۔ علامتوں کی اس فراوانی کے باعث ان کے افسانوں میں تخئیل انگیزی اور ماضی سے ارتسام کے نئے امکانات اجاگر ہوتے ہیں۔ وہ قدریں جو ہماری نظرو ں سے اوجھل ہوتی جارہی ہیں ان کی بازیافت کے لیے نیّر مسعود انسان کی مختلف جبلتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ مثلاً ان کے افسانوں میں ’خوف‘ مختلف علائم اختیار کرتا ہے۔ چند مثالیں پیش ہیں:
’’ میں دونوں کو الگ نہیں کرسکا۔ وہاں خواہش خوف تھی اور خوف خواہش۔ (افسانہ’’ اوجھل‘‘)
’’میرا بستر خوف کے ٹھکانے کے عین اوپر ہے۔ خواہش کا ٹھکانہ مجھے اس مکان میں نہیں ملا۔ لیکن یہ ممکن نہیں اور اب مجھے یقین ہے کہ یہاں خوف اور خواہش کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جو میرے تصرف میں ہے۔‘‘( افسانہ ’’اوجھل‘‘)
’’میں یہ سب دیکھتا تھا اور خود کو خواب کی حالت میں تصور کرکے بیدار ہونے کی امیدیں باندھتا تھا ۔ کبھی کبھی مجھے خوف بھی محسوس ہوتا تھا۔ ‘‘ (افسانہ ’’نصرت‘‘)
’’رات کے سناٹے میں جب یہ آواز گونجتی تو میری سمجھ میں کبھی نہ آتا تھا کہ پکارنے والا کون ہے۔ اس آواز میں موت کے خوف کی وہ لرزش ہوتی تھی جو پکارنے والے کی عمر اور جنس چھائی رہتی تھی۔ (افسانہ ’’مارگیر‘‘)
’’کبھی کبھی اس ڈر کے ختم ہونے کا خیال کرکے مجھ پر کچھ مبہم سی افسردگی طاری ہوجاتی اور میں سوچنے لگتا تھا کہ شاید وہ وقت دور نہیں جب دلہن کی بے جان یاد اور اس یاد کا بے جان خوف دونوں میرے ذہن سے ہمیشہ کے لیے محو ہوجائیں گے۔ ‘‘(افسانہ ’’بائی کے ماتم دار‘‘)
علامتوں سے انسان کا رشتہ خارجی و باطنی ہر دوسطح پر ہے۔اس میں صرف فکری رو ہی نہیں بلکہ ایک نوع کی جذباتی حدت بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے انھیں انسانی تجربات و تاثرات کا خزینہ بھی کہاجاتا ہے ۔علائم لطافت و نزاکت اور نکتہ آفرینی کا ایسا منبع ہیں کہ جنھیں اگر سلیقے سے برتا جائے تو فن کی تہہ داری اور وسعت دو چند ہوجاتی ہے۔نیّر مسعود اردو افسانے میں اس حیثیت سے ممتاز مرتبے کے حامل ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اردو افسانے میں علامتی بیانے کا ایک نیا در کھولابلکہ بیان کے ہنر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے زبان کے تفاعل اور جملوں یافقروں کی نثری ساخت کوبھی اہمیت دی۔ بیانیہ میں شعری برتاؤ سے شعوری انحراف کرتے ہوئے نیر مسعود نے افسانوی بیانیہ کو نثری خصوصیات سے متصف کیا۔ ان کے افسانوں میں خواب ، سرّیت، خواہش اور احساس کو واضح ترجیح حاصل ہے۔ جبکہ کئی افسانوں میں میجک رئیلزم کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔ نیّر مسعود کے فن کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی میجک رئیلزم کی بنیاد سرّیت پر استوار ہے جس کی وجہ سے افسانوں میں قاری کو پیچیدگی نظر آتی ہے۔ ’’شیشہ گھاٹ‘‘، ’’ عطرِ کافور‘‘ ، ’’نصرت‘‘ اور ’’مراسلہ‘‘ جیسے افسانے اس کی مثال ہیں۔ اِن افسانوں میں بلا کی مطالعہ پذیری( Readability )ہے اور ان کی فنی کی وقعت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے تاہم یہ افسانے تفہیم کی سطح پر ذرا مشکل ہی سے کھلتے ہیں۔ اس کے برعکس ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘ کی ترسیل عام قاری تک ہوجاتی ہے۔
نیّر مسعود کی اکثر کہانیوں پر تفہیم و تعبیر کی ناکامی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔امام جفر صادق .ؒ کا قول ہے کہ ’’ افلاطون کا یہ نظریہ صحیح نہیں ہے کہ انسان کی طرف سے جس خیال کا اظہار ہو اس کا خود اس کے یا دوسرے کے لیے مادی طور پر نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ باوجود یہ کہ وہ ایک حکیم انسان تھا لیکن اس حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہوا کہ بہت سے خیالات ایسے ہوتے ہیں جو مادی حیثیت سے وقیع نہیں ہوتے لیکن باطنی اور معنوی قدر و قیمت کے حامل ہوتے ہیں۔‘‘ نیّر مسعود کے افسانوں پر تفہیم و تعبیر کے حوالے سے جو اعتراضات ہوتے رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ فن پارے کی تفہیم میں ہماری افلاطونی فکر سے رغبت ہے۔ وگرنہ امام جعفر صادق.ؒ کے مذکورہ قول کے علاوہ خود ہمارے روز مرہ کے مشاہدات بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ زندگی کے بہت سے محرکات ، مذہب و مابعد الطبعیات کے بہت سے نکات اور سائنس کے کئی کرشمات انسانی فہم سے بالاتر ہیں۔لہٰذا فن پارہ ہو یا کائنات کا کوئی مظہر تفہیم و تشریح سے زیادہ اہم یہ ہے کہ فن کار چیزوں کو کس طرح دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اور ان احساسات کو اپنی تخلیق میں کتنامنتقل کرپاتا ہے۔ اپنے خیالات کو پیش کرتے ہوئے زبان و بیان میں کس درجہ ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
نیّر مسعود پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اُن کے افسانوں سے کوئی جواب برآمد نہیں ہوتا بلکہ افسانہ اپنے اختتام پر قاری کے ذہن میں کئی سوالات چھوڑ جاتا ہے۔ یہاں ممتاز چیک ناول نگارمیلان کنڈیرا کا یہ جملہ یاد آرہا ہے: ’’مجھے یہ پتہ نہیں ہوتا کہ میرا کون سا کردار راستی پر ہے کون سا گمراہ، میں تو بس کہانیاں بُنتا ہوں، کرداروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرکے سوال پوچھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ لوگ بھی کتنے احمق ہیں ہر بات کے لیے ایک جواب چاہتے ہیں۔ ادب میں تو بصیرت سوال اٹھا نے سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘
پہلی نظر میں نیّر مسعود کے افسانے آپے آپ سے بسے پیچ در پیچ الجھے ہوئے شہر کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم اُس شہر میں بستے ہیں، وہاں رہنے لگتے ہیں تو اُس کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح نیّر مسعودکے افسانوں میں بھی اگر ہم سطح سے نیچے اتریں تو کہانی کی بُنت اور واقعات کے تسلسل میں ایک ہُنر کاری نظر آتی ہے۔ تجرید و ابہام کے پردوں کے پیچھے ایک بھری پُری کائنات ہے ۔علامت اور استعاروں کی مدد سے پیش کیے گئے زندگی کے پیچ ،جبر اور رائیگانی کے احساس کونیّر مسعود کی کہانیوں میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ’مراسلہ‘، گنجفہ‘،’اوجھل‘ اور سلطان مظفر کا واقعہ نویس‘ جیسے افسانوں میں نیّر مسعود کا یہ اسلوب نمایاں ہے۔اس تعلق سے محمود ایاز نے لکھا تھا: what eyes see is not all one has to go a little beyonds یعنی اس طرح کے افسانوں میں قاری کے لیے اچھی خاصی پیچیدگی ہے۔ پہلی قرأت میں افسانہ اور قاری کے بیچ کچھ پردے حائل رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود تجسس برقرار رہتا ہے۔نیّر مسعود کا یہ خاص اسٹائل ہے کہ اگر کہانی ہم پر پوری طرح کھُل نہ رہی ہو تب بھی وہ ہمیں پڑھنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔کافکا اور ایڈگر ایلن پو کی طرح۔
زندگی اور اس کے گھنے پن کا رشتہ نیّر مسعود کے افسانوں سے کچھ اس طرح ہم آہنگ ہے کہ ہم علیحدہ علیحدہ اس کی تشریح نہیں کرسکتے۔ اول تو ان کی زبان کا طلسم ہے جو قاری کو دیر تک باندھے رکھتا ہے۔ جزیات نگاری میں بھی انھیں کمال حاصل ہے۔ روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں ، اہم غیر اہم واقعات، آدھے ادھورے خواب الغرض ان کے افسانوں میں اتنی ہماہمی ہے ، اتنا رنگ ہے کہ سمجھ میں ہی نہیں آتا کون سا رنگ پکڑیں ، کس کو چھوڑیں؟ اور پھر …..کیا رنگوں کو بھی کوئی پکڑ سکا ہے؟ کیا دھنک کو بھی کسی نے چھو کر دیکھا ہے؟ ’’علّام کا بیٹا‘‘، ’’جانشین‘‘ اور ’’بادنما‘‘ وغیرہ کہانیاں اس کی مثال ہیں۔ خاص طور سے ’’بادنما‘‘ اور ’’علّام کا بیٹا‘‘ میں تو اتنا رنگ ہے کہ بعض دفعہ یہ گمان ہوتا ہے کہ پورا افسانہ رنگوں سے بھرا ایک کینواس ہے جس میں زندگی کی نیستی کے ساتھ ہی ساتھ اُس کے بھرے پُرے پن کی رونمائی بھی ہورہی ہے۔
***
Urdu Channel , 7/3121, Gajanan Colony, Govandi, Mumbai-400043, Phone: 09773402060
Email: urduchannel@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں